پاکستانسیاست

افغانستان کے معاملے پر دلی میں انڈیا کا وسط ایشیائی ممالک کے ساتھ اجلاس، کیا یہ او آئی سی اجلاس کا جواب ہے؟

افغانستان کی صورتحال پر سعودی عرب کی تجویز اور پاکستان کی میزبانی میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے رکن ممالک کے وزرا خارجہ کی کونسل کا 17واں غیر معمولی اجلاس اتوار کو اسلام آباد میں ہو رہا ہے جس میں طالبان حکومت کے وزیر خارجہ امیر خان متقی اور او آئی سی کے سیکریٹری جنرل شرکت کر رہے ہیں۔

او آئی سی کے کُل 57 رکن ممالک میں سے 20 کے وزرائے خارجہ اسلام آباد میں اس اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں جبکہ 10 کے نائب وزرا یا وزیر مملکت اپنے ملکوں کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

اجلاس میں اقوام متحدہ، یورپی یونین، عالمی مالیاتی اداروں، علاقائی و بین الاقوامی تنظیموں، جاپان، جرمنی اور دیگر نان او آئی سی ممالک کے نمائندوں کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔

مگر اسی دوران انڈیا میں بھی اتوار کو افغانستان میں بحران اور علاقائی روابط پر ایک ڈائیلاگ ہو رہا ہے جس میں وسطی ایشیائی ممالک کرغزستان، تاجکستان، قزاقستان، ترکمانستان اور ازبکستان کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ تاہم ان ممالک کے وفود پاکستان میں ہونے والے اجلاس میں اپنے اپنے ممالک کی نمائندگی ضرور کر رہے ہیں۔

اس ایک روزہ انڈیا-سینٹرل ایشیا ڈائیلاگ کی صدارت انڈین وزیر خارجہ ایس جے شنکر کر رہے ہیں اور اس میں کرغزستان، تاجکستان، قزاقستان، ترکمانستان اور ازبکستان کے وزرائے خارجہ شامل ہیں۔

اپنی نوعیت کی اس تیسری کانفرنس میں افغانستان کے علاوہ علاقائی روابط اور تجارت پر تبادلہ خیال ہوا ہے۔

پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق تاجک وزیرِ خارجہ سروج الدین مہرالدین انڈیا کا دورہ مذکورہ ڈائیلاگ کے ساتھ ساتھ دو طرفہ دورے کے سلسلے میں بھی کر رہے ہیں۔

گذشتہ ماہ نومبر کی 10 تاریخ کو ان تمام وسطی ایشیائی ممالک کے مشیرانِ قومی سلامتی نے انڈیا میں ایسے ہی ایک اور ڈائیلاگ میں شرکت کی تھی جس کا موضوع افغانستان تھا۔

اس ڈائیلاگ میں روس اور ایران کے مشیرانِ قومی سلامتی بھی تھے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button