کرکٹکھیل

محمد رضوان، ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کا ڈان بریڈمین

اگر ویسٹ انڈیز کے پاس اپنا کھویا وقار بحال کرنے کا کوئی موقع تھا تو وہ یہاں تھا۔ ٹیم اگرچہ نوآموز ہے اور ویسٹ انڈین مینیجمنٹ کے ذہن میں بھی شکست و فتح سے زیادہ اہم اگلے ورلڈ کپ کے لیے جواں خون کو تیار کرنا ہے مگر یہاں جیت ممکن تھی۔

پہلے میچ میں مایوس کن کارکردگی کے بعد دوسرے میچ میں ویسٹ انڈیز نے اچھا ’کم بیک‘ کیا اور جیت کے عین قریب بھی آ گئے۔ یہاں ویسٹ انڈیز کے پاس برتری تھی کیونکہ دوسری اننگز میں تعاقب کا کوئی ایسا دباؤ بھی نہیں ہونا تھا اور پہلے بیٹنگ کر کے ویسٹ انڈیز ایسا مجموعہ جوڑ سکتا تھا کہ ہدف پاکستان کے لیے ناقابلِ تسخیر ہو جاتا۔

ویسٹ انڈین بیٹنگ کے پاس موقع یوں بھی بھرپور تھا کہ پاور پلے میں دردِ سر بننے والے شاہین شاہ آفریدی اور ڈیتھ اوورز میں اننگز کا ’ڈنک‘ نکالنے والے حارث رؤف بھی پاکستانی الیون کا حصہ نہیں تھے۔

مگر شاہنواز دھانی ان کی توقعات سے بہتر نکلے۔ جس جارحانہ انداز میں ویسٹ انڈیز نے اپنی اننگز کا آغاز کیا تھا، دھانی نے اس ساری برق رفتاری کے آگے بند باندھ دیے۔ ان کی رفتار اور لینتھ کی درستی کسی بھی بلے باز کے لیے پریشان کن تھی۔

برینڈن کنگ نے پچھلے میچ کی فارم برقرار رکھتے ہوئے اپنی ٹیم کو شاندار آغاز فراہم کیا۔ نکولس پُورن نے پچھلے میچ کے برعکس ایک بار پھر ون ڈاؤن پوزیشن پر کھیلنے کا فیصلہ کیا اور یہ ان کی ٹیم کے لیے بھی بہتر ثابت ہوا۔

براوو کی اچھی کاوش کے بعد گمان یہ تھا کہ جس قدر وسائل ویسٹ انڈیز کی جیب میں موجود تھے اور جیسی پاور ہٹنگ ان کے لوئر آرڈر کا خاصہ ہے، وہ یقیناً 220 کے لگ بھگ مجموعہ تشکیل دے جائیں گے۔

مگر ڈیتھ اوورز میں دھانی کی شاندار بولنگ نے ایسے خطیر مجموعے کو خارج از امکان کر دیا۔ جس طرح سے وہ اننگز کے اواخر میں ہاتھ کھولنا چاہ رہے تھے، وہ حسرت ہی رہ گئی اور جو مجموعہ پاکستان کے لیے طے پایا، وہ اس بیٹنگ لائن کے لیے بآسانی قابلِ حصول تھا۔

کیونکہ جیسی فارم محمد رضوان لے کر چل رہے ہیں اور ہر میچ میں کوئی نہ کوئی ریکارڈ شکن کارنامہ انجام دے دیتے ہیں، پاکستان کے لیے یہ ہدف کسی بھی لحاظ سے تشویش کن نہیں تھا۔ رضوان کے اب تک کے ٹی ٹوئنٹی کریئر کو اگر دیکھا جائے تو یہ کہنے میں عار نہیں کہ رواں سال وہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے ڈان بریڈمین رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button